جیکب آباد میں جعلی مقابلے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو جرگے میں سزا؛ عدالتی نظام پر اعتماد کم کیوں ہو رہا ہے؟

Share this


  • جیکب آباد میں ایک نوجوان کے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر کراچی میں جرگہ ہوا
  • جرگے نے مقابلے میں ملوث دو تھانےداروں اور متعدد پولیس اہلکاروں پر دو کروڑ 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
  • مقتول کے ورثا کا کہنا تھا کہ وہ مالی وسائل نہ ہونے کے سبب عدالتوں میں مقدمے کی پیروی نہیں کر سکتے۔

سندھ کے ضلعے جیکب آباد میں ایک جعلی ثابت ہونے والے پولیس مقابلے میں مارے گئے نوجوان کے قتل کے الزام میں دو تھانے داروں سمیت پولیس اہلکاروں کو دو کروڑ 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ لیکن یہ سزا کسی عدالت نے نہیں بلکہ ایک جرگے نے سنائی ہے جو کراچی کے پوش ترین علاقے میں ہوا۔

مقتول کے ورثا کا کہنا ہے کہ وہ مالی وسائل نہ ہونے اور خوف کے سبب، عدالتوں میں مقدمے کی طویل پیروی نہیں کرسکتے۔

دوسری جانب سماجی ماہرین اور وکلا کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے بجائے جرگوں کے فیصلوں پر انحصار ملک میں نظامِ انصاف پر سوالات اٹھاتا نظر آ رہا ہے۔

واقعہ تھا کیا؟

گزشتہ سال مئی میں جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے علاقے جیلانی گراؤنڈ کے رہائشی اور سماجی کارکن صدام حسین لاشاری کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا تھا۔

پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ صدام حسین لاشاری موٹر سائیکل چوری کرنے کی واردات میں ملوث تھا اور مقابلے کی ایسی تصویر بھی جاری کی گئی تھیں جس میں صدام کے ہاتھ میں اسلحہ دکھا کر اسے سڑک پر پڑا دکھایا گیا۔

پولیس کے اس وقت کے دعوے کے مطابق ملزم 13 دیگر مقدمات میں بھی مطلوب تھا۔

لیکن گھر کے واحد کفیل، بوڑھے والدین کا سہارا، دو بہنوں کا اکلوتا بھائی اور چار بچوں کے باپ صدام حسین لاشاری کے اہلِ خانہ یہ الزام قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔

ان کے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ صدام حسین لاشاری کو پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب وہ ہوٹل پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔

اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ صدام کی رہائی کے لیے ان سے دس لاکھ روپے رشوت طلب کی گئی کیوں کہ پولیس اہلکار جانتے تھے کہ انہیں کچھ روز قبل ہی کاروبار کی مد میں کچھ رقم ملی تھی۔ لیکن رقم نہ دینے پر دو روز غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد صدام حسین لاشاری کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ صدام کو فحاشی کے اڈے کے خلاف آواز اٹھانے پر دھمکیاں بھی دی گئی تھیں جب کہ اس پر تلخ کلامی کا واقعہ بھی ہوا تھا۔

صدام حسین لاشاری کے قتل پر اس کی بہن حسینہ لاشاری نے احتجاج کیا۔ اپنے بھائی کے قتل پر پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواستیں حکام کو دیں۔

مقدمے کے اندراج کے لیے تحریک چلائی، سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی۔ لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔ جب احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہوا تو پولیس نے کئی ماہ بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جس پر ورثا نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

کئی ماہ بعد صوبائی حکومت کو اس معاملے پر عدالتی انکوائری کرنا پڑی اور سیشن جج کی نگرانی میں اس واقعے کی چھان بین ہوئی۔ بیانات ریکارڈ ہوئے، جج نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تقریباََ پانچ ماہ تک تحقیقات کرنے کے بعد پولیس کے دو تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کو قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

جرگے میں کیا طے پایا؟

عدالتی انکوائری کے بعد مقدمے کا اندراج ہوا اور چار پولیس اہلکار گرفتار ہوئے جب کہ دو ایس ایچ اوز نے ضمانت کی درخواستیں دائر کیں۔ لیکن کہانی میں ایک اور موڑ یہاں سے شروع ہوا جب یہ خبر سامنے آئی کہ اس واقعے پر کراچی میں ایک جرگہ ہوا۔

اس جرگے میں مقتول کے ورثا اور پولیس اہلکاروں کے درمیان صلح ہوئی اور اب مقدمے میں ملوث پولیس اہلکار مقتول کے خاندان کو مجموعی طور پر دو کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم ادا کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق جرگہ سردار ذوالفقار خان سرکی کی سربراہی میں ہوا جو رکن سندھ اسمبلی سہراب خان سرکی کے عزیز ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کراچی کے اس پوش علاقے میں ہونے والے جرگے میں مقامی عمائدین، پیپلز پارٹی کے رہنما لیاقت لاشاری اور مقتول کے ورثا سمیت دیگر کئی شخصیات نے شرکت کی۔

جرگہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں ہوا۔

جرگہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں ہوا۔

پولیس مقابلے میں کون کون ملوث تھا؟

جرگے میں موجود بعض افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے لک خان بجارانی نے مشیر کی حیثیت سے بیان دیا جس کے بعد جرگے کے رہنماؤں نے آپس میں مشاورت کی اور طے پایا کہ دو ایس ایچ اوز، تھانہ ٹھل کے سابق ایس ایچ او غلام نبی بجارانی اور تھانہ آباد کے سابق ایس ایچ او نبی بخش ڈہانی سمیت پولیس اہلکاروں غلام مرتضیٰ، ممتاز کٹو، اسلم گورچانی اور شاہد کھوسو مجموعی طور پر دو کروڑ 20 لاکھ کا جرمانہ ادا کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جرگے کی جانب سے عائد جرمانے میں سے 30 لاکھ روپے ورثا کی جانب سے معاف کیے گئے جب کہ 10 لاکھ روپے موقعے پر ادا کیے گئے جب کہ باقی ایک کروڑ 80 لاکھ روپے ایک سال میں ادا کرنے کی یقینی دہانی کرائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جرگے کی جانب سے طے کیا گیا کہ اس معاہدے کے تحت جعلی مقابلے میں ملوث پولیس افسران اور اہلکار مقتول صدام حسین لاشاری کے اہلِ خانہ کو ہر دو ماہ بعد 30 لاکھ روپے ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔

آئی جی سندھ کا جرگے کے خلاف ایکشن کا عندیہ

سندھ کی پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) غلام نبی میمن نے عندیہ دیا ہے کہ غیر قانونی اقدام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

صدام حسین لاشاری کے قتل کے واقعے پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ ھے کہا کہ پولیس انصاف کے تمام تر تقاضے پورے کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی جب کہ نوجوان کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

آئی جی سندھ کے مطابق غیر قانونی جرگے پر بھی کارروائی کے لیے قانونی تقاضوں کو مدِ نظر رکھ کر ہی کارروائی جائے گی۔

’مجبوری میں جرمانے پر ہی اکتفا کیا‘

صدام حسین لاشاری کی بہن حسینہ لاشاری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی آمدن بہت قلیل ہے اور یہاں عدالتی نظام تھکا دینے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں سزائیں دلانے کے لیے بہت کوشش کی۔ وہ اکیلے تھانوں، عدالتوں اور افسروں کے دفتروں کے چکر لگا لگا کر تھک چکی ہیں۔

ان کے بقول وہ بہت تکلیف میں ہیں اور انہیں خوف بھی محسوس ہوتا ہے جب کہ دوسری جانب ان کے والد بیمار ہیں اور گھر پر کوئی اور نہیں جو اس کیس کی پیروی کے لیے روز عدالتوں یا سرکاری دفاتر کے چکر لگا سکے۔

ان کی بہن کا کہنا تھا کہ ان کے اپنے بچے ہیں اور ان کے مقتول بھائی صدام حسین لاشاری کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے علاقے کی روایت کے تحت انہیں اس معاملے کو حل کرنے کے لئے قرآن کے واسطہ دیا گیا۔

حسینہ نے روتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس ایسے میں کیا راستہ رہ جاتا ہےَ

ان کا کہنا تھا کہ صدام حسین لاشاری کے قتل پر کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ اب ہمیں یہ فیصلہ نہ چاہتے ہوئے بھی کرنا پڑ رہا ہے تاکہ کم از کم بچوں کا مستقبل تو محفوظ ہو سکے۔ انہیں تو کھانا کھانا ہے۔

ان کے بقول ہمارا تو بھائی چلا گیا۔ لیکن اس کے بچوں کا اب کوئی وارث نہیں ہے۔ صدام اکلوتا ہونے کی وجہ سے والدین اور بہنوں کا بھی لاڈلا تھا۔ اس سے کوئی کام نہیں کراتے تھے۔ لیکن جیتے جاگتے بھائی کو پل بھر میں چھین لیا گیا۔

’لوگوں کا عدالتی نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے‘

مدعی کے وکیل روشن کنرانی ایڈوکیٹ عدالت کے بجائے جرگے میں اس کیس کا فیصلہ ہونے کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسے واقعات ہمارے عدالتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔

ان کے بقول یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں عدالت سے باہر قتل کے مقدمے کا فیصلہ ہوا ہے۔ کچھ عرصے قبل ناظم جوکھیو کیس، میں کئی صحافیوں اور دیگر افراد کے اہل خانہ کو بھی صلح کرنی پڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ عدالتی نظام میں سست روی ہے۔ پھر دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے واقعے کی تفتیش انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہوتی۔

ان کے مطابق کیس کے شواہد ٹھیک طریقے سے جمع نہیں کیے جاتے جب کہ تیسرا اہم مسئلہ پراسکیوشن کی کمزوری ہے اور وہ مقدمے کو کمزور تفتیش اور اپنی نا اہلی دونوں ہی وجوہات کی بنا پر عدالت میں جرم ثابت کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

ان کے بقول ایسے میں مدعی کئی برس عدالتوں کے چکر کاٹنے اور مالی بوجھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ذہنی ٹارچر سہنے کے بعد بھی انصاف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا عدالتی نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔

قبائلی معاشرتی نظام کو طاقت پر مبنی سیاسی نظام تقویت دے رہا ہے

سپریم کورٹ کے معروف وکیل اور کالم نگار شہاب اوستو کا کہنا ہے کہ سندھ میں قبائلی معاشرہ اب بھی موجود ہے۔ صوبے میں قبائلی نظام میں سرداروں اور وڈیرہ شاہی نظام کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوطی ملی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا براہِ راست تعلق صوبے میں موجود سیاسی کلچر سے ہے۔

شہاب اوستو کا کہنا تھا کہ سندھ میں اب اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے علاقوں میں موجود وڈیروں کو مزید مضبوط کیا گیا ہے اور صوبے میں عملاََ کنٹرول انتظامیہ کے پاس نہیں۔ بلکہ ان طاقت ور لوگوں کے پاس ہے۔

ان کے بقول ان طاقت ور لوگوں کی مرضی کے بغیر کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ کی زمین پر قبضہ ہو گیا تو پولیس کچھ نہیں کر سکتی۔ بلکہ آپ کو ان طاقت ور لوگوں کے پاس ہی جانا ہوتا ہے جن کے کہنے پر ہی پولیس حرکت میں آتی ہے۔

شہاب اوستو نے الزام عائد کہا کہ ملک میں عدالتی نظام مکمل طور پر کمزور ہو چکا ہے جب کہ دوسری جانب ان طاقت ور افراد کو ریاستی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا ان طاقت ور افراد کو اقتدار میں آنے کے لیے عوامی حمایت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ وہ عوام سے مکمل طور پر لاتعلق ہوچکے ہیں۔ ایسے میں جب انصاف کے ادارے یا انصاف کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے اور طاقت پر چند لوگوں کا قبضہ ہے جو کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں تو لوگ کس سے اور کیسے انصاف کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ وہ انہیں کے ہاتھوں مجبور ہیں۔

شہاب اوستو کے بقول صوبے میں جاگیردارانہ نظام کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ کوئی ان کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر کوئی اٹھنے کی کوشش بھی کرے تو اسے عبرت کا نشان بنادیا جاتا ہے جیسا کہ ناظم جوکھیو قتل کیس میں ہوا اور اس کے بہیمانہ قتل کے بعد اس کی بیوی کو مجبور کردیا گیا کہ وہ خون بہا لے کر صلح کرنے پر مجبور ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔ ایسے درجنوں واقعات رونما ہو چکے ہیں جس میں فیصلے نظامِ انصاف کے بجائے چند طاقت ور لوگوں نے کیے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی جرگوں کا متوازی عدالتی نظام جاگیرداریت کو تقویت دے رہا ہے اور عدالتی نظام میں موجود خامیوں نے اس خیال کو پروان چڑھایا ہے کہ جرگوں میں کم وقت اور آسانی سے مسائل کی شنوائی ممکن ہے۔

خیال رہے کہ 2004 میں سندھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں جرگہ سسٹم کو غیر قانونی اور آئین و قانون کے مکمل منافی قرار دیا گیاتھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ جرگوں کو فوجداری معاملات پر فیصلے دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور ان کی مداخلت کا مطلب درحقیقت عدالتی نظام کی خلاف ورزی ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جرگوں کا نظام جاگیرداروں، سیاست دانوں، پولیس اور ریاستی پالیسیوں نے خود زندہ رکھا ہوا ہے۔



Source link