وائٹ ہاؤس کا سالانہ افطار ڈنر: مسلم کمیونٹی لیڈر کا ‘واک آؤٹ’

Share this



  • صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔
  • غزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر طاہر احمد کے مطابق وہ میٹنگ ختم ہونے سے قبل ہی وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے تھے۔
  • ڈاکٹر طاہر احمد اس میٹنگ میں واحد فلسطینی امریکی تھے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی جانب سے مسلم کمیونٹی کے اعزاز میں دیے گئے سالانہ افطار اور عشایئے کے دوران بعض مسلم رہنماؤں نے غزہ جنگ سے متعلق ان کی پالیسی پر مایوسی کا اظہار کیا۔

منگل کو افطار ڈنر سے قبل صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔

بعد ازاں ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں خاتونِ اول جل بائیڈن، نائب صدر کاملا ہیرس سمیت بائیڈن انتظامیہ میں شامل مسلم کمیونٹی کے اہلکار شریک ہوئے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین ژاں پیئر نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ “صدر بائیڈن مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ایک میٹنگ کی میزبانی کریں گے تاکہ کمیونٹی کے لیے اہمیت کے حامل مسائل پر بات کی جا سکے۔”

بعد ازاں ترجمان نے بتایا کہ اس میٹنگ میں صدر بائیڈن سوالوں کے جواب دیں گے۔

غزہ میں تین ہفتے تک خدمات سر انجام دینے والے ایمرجنسی روم ڈاکٹر طاہر احمد نے نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کو بتایا کہ وہ میٹنگ ختم ہونے سے قبل ہی وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے تھے۔

ڈاکٹر طاہر احمد کا کہنا تھا کہ “اپنی کمیونٹی کے احترام میں اور ان تمام لوگوں کے لیے جو نقصان اُٹھا رہے ہیں اور مارے گئے ہیں، میرا اس میٹنگ سے واک آؤٹ ضروری تھا۔”

طاہر احمد میٹنگ میں شرکت کرنے والے واحد فلسطینی امریکی کمیونٹی رہنما تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے ہمیں کوئی خاطر خواہ جوابات نہیں مل رہے تھے۔

صدر بائیڈن کی جانب سے دیا گیا یہ افطار ڈنر گزشتہ برس مئی میں اس عید ملن پارٹی سے بالکل مختلف تھا جس میں درجنوں حاضرین نے صدر بائیڈن کے حق میں نعرے بازی کی تھی۔

اس دوران صدر نے کہا تھا کہ “یہ آپ سب کا گھر ہے۔”

فلسطینی نژاد امریکی مسلم ارکان کانگریس راشدہ طلیب اور الہان عمر بھی اس ایونٹ میں شریک تھے جو اب صدر بائیڈن کی غزہ پالیسی کی بڑی ناقد ہیں۔

ایک امریکی مسلم ایڈوکسی گروپ ‘ایمگیج ایکشن’ نے بھی صدر بائیڈن کے دعوت نامے کے باوجود افطار ڈنر میں شرکت نہیں کی۔

گروپ کے مطابق افطار ڈنر کے دعوت نامے کو صدر بائیڈن کی اسرائیل کے لیے ‘غیر مشروط فوجی امداد’ کی وجہ سے رد کیا گیا۔

گروپ کا کہنا تھا کہ یہ غیر مشروط امداد غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کا یہ مؤقف رہا ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے۔

امریکی صدر اور دیگر حکام اسرائیل پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ غزہ میں انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرے۔

اس خبر کے لیے معلومات خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہیں۔



Source link