وبائی امراض سے بچاؤ کے حتمی معاہدے کی تیاری پر مذاکرات 29 اپریل سے شروع ہوں گے

Share this



  • وباؤں سے بچاؤ کے عالمی معاہدے پر مذاکرات 29 اپریل سے جنیوا میں شروع ہوں گے۔
  • معاہدے کے متن کی تیاری کا کام ایک بین الحکومتی ٹیم 18 اپریل تک مکمل کرے گی۔
  • معاہدے میں نئے وائرسوں کی معلومات، روک تھام، ویکسینز اور ٹیکنالوجی کے اشتراک میں شفافیت پر توجہ مرکوز ہے۔
  • میکسیکو کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک مؤثر اور منصفانہ معاہدہ کرنے کے لیے بھرپور عزم اور اخلاص کے ساتھ دلیری سے کام کرنا چاہیے۔

مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے سے متعلق مذاکرات کے شریک چیئرمین نے کہا ہے کہ مذاکرات میں شامل ممالک کے پاس اپنے اختلافات ختم کرنے کے لیے صرف اپریل کا مہینہ باقی رہ گیا ہے کیونکہ ناکامی اب کوئی آپشن نہیں ہے۔

دنیا کے ممالک گزشتہ دو سال سے وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردعمل سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے کا مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہیں، لیکن ویکسین کی تیاری کی شفافیت اور وائرس کی نگرانی جیسے اہم مسائل پر ابھی تک وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پائے۔

عالمی ادارہ صحت کا سالانہ اجلاس 27 مئی کو شروع ہو گا جس میں 194 رکن ممالک حصہ لیں گے۔ اجلاس سے قبل معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ممالک 29 اپریل سے 10 مئی تک جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کے ہیڈکوارٹرز میں اکٹھے ہوں گے۔

مذاکرات کے شریک چیئرمین رولینڈ ڈرائس چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں شامل ممالک کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے اس وقت کو استعمال کریں۔

اس سلسلے میں سامنے آنے والے اہم نکات میں نئے وائرسوں کے متعلق معلومات کا اشتراک، بیماریوں کے پھیلاؤ کی بہتر نگرانی، قابل بھروسہ مالی امداد اور غیریب ممالک کو وبائی امراض سے نمٹنے کی ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہیں۔

اپریل اور مئی میں ہونے والے مذاکرات سے قبل کئی ممالک نے کووڈ۔19 کی ایک اور قسم کے پھیلاؤ کی نشاندہی کی ہے۔

کووڈ۔19 وہ وبا ہے جس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچایا، معاشروں کو الٹ پلٹ کر دیا، صحت کے نظام تباہ کر دیے اور لاکھوں زندگیوں کا خراج وصول کیا۔

شریک چیئرمین رولینڈ ڈرائس کہتے ہیں کہ ہر کسی کو معلوم ہے کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کوئی آپشن نہیں ہے۔

ڈرائس کی بین الحکومتی مذاکراتی ٹیم 18 اپریل تک ایک نئے مسودے کا متن تیار کرے گی، جس میں مشترکہ بنیادوں پر توجہ مرکوز ہو گی۔

مذاکرات میں شریک این جی اوز کچھ خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔ پیپلز ویکسن الائنس کے موہگا کمال یانی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امیر ممالک وائرسوں کی تیز رفتار نگرانی کے لیے مالی امداد کی پیش کش نہیں کر رہے اور نہ ہی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے وعدے کر رہے ہیں۔ حتی ٰ کہ وہ ویکسین سے متعلق سرکاری مالی اعانت کی مصنوعات کے آلات پر حقوق کی چھوٹ بھی نہیں دے رہے۔

افریقی ممالک کا گروپ اور شفافیت کے لیے کام کرنے والا 31 ممالک کا گروپ ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض کی روک تھام کے اقدامات، مثال کے طور پر ویکسین تیار کرنے کے لائسنس سمیت، فوائد کی منصفانہ اور تیزی سے تقسیم اور وبائی امراض کے وائرسوں سے متعلق معلومات تک رسائی پر زور دے رہا ہے۔

میکسیکو کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک مؤثر اور منصفانہ معاہدہ کرنے کے لیے بھرپور عزم اور اخلاص کے ساتھ دلیری سے کام کرنا چاہیے۔

(اس رپورٹ کی کچھ معلومات اے ایف پی سے لی گئیں ہیں)



Source link