بھارت کی سب سے گنجان آباد ریاست میں مسلمانوں کا مدرسوں پر پابندی کے خلاف احتجاج

Share this


  • بھارت میں مسلم ماہرین تعلیم کا ایک حالیہ عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج۔
  • عدالت نے یو پی کے اسلامی اسکولوں کو بند کرنے اور ان کے تمام طلباء کو ” ریگولر ” اسکولوں میں منتقل کرنےکا حکم دیا ہے۔
  • دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر الاسلام خان کے مطابق “یہ عدالتی حکم بھارتی آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو مذہبی اقلیتوں کو اپنی مرضی کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔”

بھارت میں مسلم ماہرین تعلیم ایک حالیہ عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس کے تحت ملک کی سب سے گنجان آباد ریاست میں ہزاروں دینی مدارس کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا جائے گا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 22 مارچ کے اپنے فیصلے میں، اتر پردیش بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ 2004 کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا کہ یہ بھارت کے آئینی سیکولرازم کی خلاف ورزی ہے۔ اس نے حکم دیا کہ اتر پردیش میں اسلامی اسکول کے تمام طلباء کو “باقاعدہ” اسکولوں میں منتقل کیا جائے۔

حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی، یا بی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مسلم کمیونٹی کے طلباء کو جدید مین اسٹریم اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم ہو گا اور مسلم معاشرے کو فائدہ پہنچے گا۔

لیکن مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں برسوں کی ان اصلاحات کو نظر انداز کیا گیا ہے جنہوں نے بھارت کے مدارس کو جدید بنا دیا ہے اور ان میں قومی سطح پر منظور شدہ نصاب متعارف کرایا ہے، جن میں فزکس، کیمسٹری، ریاضی، کمپیوٹر پروگرامنگ اور سوشل سائنس جیسے مضامین شامل ہیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر الاسلام خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا، “ یہ عدالتی حکم بھارتی آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو مذہبی اقلیتوں کو اپنی مرضی کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “مسلمانوں نے جدید مدارس کا دل و جان سے خیرمقدم کیا، اور ہم نے ان مدارس سے تعلیم یافتہ طلباء کو سرکاری ملازم، سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے جدید شعبوں کے ماہر بنتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کے باوجود حکام مسلم کمیونٹی کی خواہشات اور مفادات کے خلاف تمام مدارس کو بند کر رہے ہیں۔”

مغرب بنگال میں ایک جدید مدرسے کے ایک کلاس روم کا منظر ، اس اسکول میں 50 فیصد طلبا غیر مسلم ہیں جن میں سے بیشتر ہندو ہیں، فوٹو شیخ عزیز الرحمان وی او اے

مغرب بنگال میں ایک جدید مدرسے کے ایک کلاس روم کا منظر ، اس اسکول میں 50 فیصد طلبا غیر مسلم ہیں جن میں سے بیشتر ہندو ہیں، فوٹو شیخ عزیز الرحمان وی او اے

عدالتی حکم سے بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن کے تسلیم شدہ لگ بھگ 16,500 مدارس، ان کے ایک کروڑ 95 لاکھ طلبا اور ایک لاکھ اساتذہ متاثر ہوں گے۔ ان میں متعدد غیر مسلم طالب علم شامل ہیں جن میں سے بیشتر ہندو ہیں۔

مدرسے کے اساتذہ نے کہا کہ اس فیصلے کا اثر آخر کار یوپی کے تمام 25,000 تسلیم شدہ اور غیر تسلیم شدہ مدارس پر پڑے گا، جہاں 27 لاکھ طلباء کو ایک لاکھ 40 ہزار اساتذہ پڑھاتے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا، “سپریم کورٹ نے بار بار جدید مضامین کے ساتھ جدید تعلیم پر زور دیا ہے، ایک ایسی تعلیم جو عالمگیر نوعیت کی ہو، جو ایک بچے کو اپنا مستقبل روشن بنانے اور اس ملک کو آگے لے جانے کے لیے تیار کرتی ہے۔”

عدالت نے کہا کہ مدرسہ ایکٹ کے تحت مدارس کا نصاب “یقینی طور پر” اس نصاب کے مساوی نہیں ہے جو مرکزی دھارے کے اسکولوں میں طلباء کو پڑھایا جاتا ہے اور اس لیے مدارس میں دی جانے والی تعلیم نہ تو “معیاری” ہے اور نہ ہی “عالمگیر” نوعیت کی ہے۔

لیکن کئی تسلیم شدہ مدارس کے اساتذہ نے عدالت کے استدلال پر سوال اٹھاتے ہوئے وی او اے کو بتایا کہ تسلیم شدہ مدارس میں جدید تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور ان میں 2018 سے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ، یا NCERT کا ہدایت کردہ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔

NCERT وفاقی حکومت کا قائم کردہ ایک ادارہ ہے جو ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نصاب وضع کرتا ہے اور اس کی نگرانی کرتا ہے۔

یوپی کے اسلامک مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر اور بھارتی حکومت کی قومی مدرسہ ماڈرنائزیشن کنسلٹیٹیو کمیٹی کے رکن اعجاز احمد نے وی او سے بات کرتے ہوئے کہا، “یہ تمام جدید مدارس ہیں۔”

اترپردیش کے ڈسٹرکٹ میرٹھ کے ایک جدید مدرسے میں لڑکیوں اور لڑکوں کو فزیکل ٹریننگ دی جارہی ہے ، فوٹو ابرار حسین برائے وی او اے

اترپردیش کے ڈسٹرکٹ میرٹھ کے ایک جدید مدرسے میں لڑکیوں اور لڑکوں کو فزیکل ٹریننگ دی جارہی ہے ، فوٹو ابرار حسین برائے وی او اے

انہوں نے کہا کہ، “غیر آئینی قرار دیے جانے سے، تمام تسلیم شدہ مدارس کو بند کر دیا جائے گا اور تقریباً 100,000 اساتذہ بے روزگار ہو جائیں گے۔”

یوپی کے ڈسٹرکٹ میرٹھ کے ایک جدید مدرسے میں سائنس ٹیچر, بابو رام نے، جو ہندو ہیں, بتایا کہ بھارتی مدارس 2009 سے کوالٹی ایجو کیشن فراہم کرنے سے متعلق وفاقی طورپر متعارف کرائی گئی اسکیم، SPQEM کے تحت اصلاحات کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ابتدائی طور پر 25,000 سے زیادہ اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے تھے۔

بابو رام نے وی او اے کو بتایا ” حکومت نے مسلم کمیونٹی کی تعلیمی ترقی کے لیے، جدید مدارس متعارف کرائے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ “ایس پی کیو ای ایم اسکیم بہت کامیاب رہی اور ان مدارس میں مسلمان بچوں کے داخلے میں اضافہ ہوا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ”مسلمان والدین روایتی طور پر جدید مدارس کو مرکزی دھارے کے اسکولوں پر ترجیح دیتے ہیں تاکہ ان کے بچے باقاعدہ مضامین کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم بھی حاصل کر سکیں ۔”

انہوں نے کہا کہ “اگر مدرسے بند کر دیے گئے تو مسلمان طالب علموں کی اسکول چھوڑنے کی شرح میں یقینی طور پر اضافہ ہو گا۔ حکام مدارس کو اس کے باوجود بند کر رہے ہیں کہ وہ اتنے ہی اچھے ہیں جتنے کہ باقاعدہ سکول- اس سے ہم ناانصافی کا شکار ہوں گے”

بھارت میں مسلمان طویل عرصے سے امتیازی سلوک کی شکایت کر رہے ہیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسلم مخالف جذبات میں 2014 میں اس کے بعد سے اضافہ ہوا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی کی انتظامیہ ہندو قوم پرست ایجنڈے کے ساتھ بر سر اقتدار آئی۔

لیکن مودی کی حکمران بی جے پی میں نئی دہلی میں مقیم ایک سینئر رہنما آلوک واٹس نے اس خیال کو، کہ پارٹی مسلم مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

انہوں نے وی او اے سے بات کرتے ہوئے کہا ، “بی جے پی مدارس کے خلاف نہیں ہے، لیکن اسے مسلمان بچوں کی بہبود کی فکر ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ “ بچوں کو مدارس سے ریگولر اسکولوں میں بھیجنا ایک ترقی پسند اقدام ہے۔ اس سے بچوں کو جدید تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کے بہتر مواقع ملیں گے۔”

آلوک نے کہا کہ “صرف ایک چیز جس سے ہمیں تکلیف ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ اب مدرسوں کے اساتذہ کی بڑی تعداد کا کیا ہو گا۔ اگر ان اساتذہ کو دوسرے ریگولر اسکولوں میں ضم کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا جائے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔”

شیخ عزیز الرحمان وی او اے ۔



Source link