افغانستان میں زندگی بچانے کی امداد کی فراہمی میں شدید رکاوٹ کا خطرہ ہے: اقوام متحدہ

Share this



1
  • افغانستان میں لاکھوں لوگوں کو اشد ضروری امداد کی فراہمی میں شدید رکاوٹ کا خطرہ ہے: اقوام متحدہ۔
  • عطیہ دہندگان نے 2024 کے لیے انسانی امداد کی اپیل کا صرف 6 فیصد دیا ہے۔
  • افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی رابطہ کار اندریکا رتواٹے نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغان عوام کے لیے اپنے عزم کو دوگنا کرے اور مالی امداد میں اضافہ کرے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں لاکھوں لوگوں کو جان بچانے والی امداد کی ترسیل میں “شدید رکاوٹ”پیش آ سکتی ہے کیونکہ عطیہ دہندگان نے 2024 کے لیے انسانی امداد کی اپیل کا صرف 6 فیصد دیا ہے۔

غربت زدہ ملک کے لیے انسانی ہمدردی کی رابطہ کار اندریکا رتواٹے نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغان عوام کے لیے اپنے عزم کو دوگنا کرے اور مالی امداد میں اضافہ کرے۔

منگل کو جاری کیے گئے اقوام متحدہ کے ایک بیان کے مطابق، رتواٹے نے فنڈنگ کی موجودہ سطح پر “گہری تشویش “ کا اظہار کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کو افغانستان میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے درکار تین ارب چھ لاکھ ڈالر ( 3.06 ارب ڈالر) میں سے اب تک صرف 29 لاکھ ( 290 ملین ڈالر) حاصل ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ “موجودہ ضروریات اور دستیاب فنڈنگ کے درمیان اتنا نمایاں فرق جان بچانے والی امداد کی فراہمی میں شدید رکاوٹ پیدا کرے گا۔”

افغانستان میں قدرتی آفات اور برسوں کی جنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اداروں کا تخمینہ ہے کہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو انسانی ہمدردی کی امداد کی ضرورت ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ عطیات دہندگان کی فنڈنگ میں کمی دنیا کے ایک بدترین انسانی بحران میں شدت پیدا کر رہی ہے۔

بنیاد پرست طالبان کی 2021 میں اقتدار میں واپسی سے ملک میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں کو درپیش چیلنجوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ڈی فیکٹو افغان حکام نے کئی خواتین کو اقوام متحدہ سمیت سرکاری اور نجی کام کی جگہوں پر جانے پر پابندی عائد کر دی ہے اور نوعمر لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول جانے سے روک دیا ہے۔

طالبان نے خواتین پر پابندیوں کو منسوخ کرنے کے مسلسل بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکمرانی افغان ثقافت اور اسلامی اصولوں کے مطابق ہے۔

ناقدین طالبان کی ان پابندیوں پر ملک میں انسانی ہمدردی کے بحران اور غیر ملکی عطیات دہندگان کی حوصلہ شکنی میں ایک کردار ادا کرنےکا الزام دیتے ہیں۔

عالمی ادارہ خوراک نے 2023 میں فنڈنگ کی بہت زیادہ کمی کی وجہ سے ایک کروڑ افغان شہریوں کے لیے خوراک کی امداد بند کر دی تھی۔

طالبان نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کی بدانتظامی کی پالیسیاں افغانستان میں انسانی امداد کی آمد کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، اور عطیہ دہندگان پر امداد کو سیاسی رنگ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا کے زیر اہتمام ایک حالیہ سیمینار میں کہا, “ہمیں ان کی معاونت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ان کے (غیر ملکیوں کے) نقصان سے بچائیں ۔”

(وی او اے نیوز)



Source link