وائٹ ہاؤس کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی محدود نہ کرنے کا عندیہ

Share this



  • امدادی کارکنوں پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔
  • امریکہ میں بعض حلقے اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حملے میں ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ کے سات رضاکاروں کی ہلاکت اور غزہ میں لڑائی کے دوران ہزاروں اموات کے باعث امریکی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ بعض حلقے امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس معاملے پر منگل کو صدر بائیڈن کا بھی ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ “وہ ناراض اور دل شکستہ ہیں۔” یہ اسرائیل کے جنگی طرزِعمل پر بائیڈن کی ایک اور سرزنش تھی۔

اسرائیل نے اس حملے کو ایک بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ‘غیر ارادی’ تھا جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

بدھ کو بائیڈن نے ان سوالات کو نظر انداز کر دیا کہ آیا وہ اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد پر شرائط عائد کریں گے۔

بائیڈن کے معاونین سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایسا نہیں کرے گا کیوں کہ امریکہ حماس کی طرف سے ‘اب بھی قابلِ عمل خطرے’ کے خلاف دفاع کے اسرائیلی حق کی حمایت کرتا ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے مشیر جان کربی نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرے گی۔

انہوں نے کہا “میں ان فیصلوں سے آگے نہیں جا رہا ہوں جو ابھی تک نہیں ہوئے ہیں۔”

بدھ کو ‘رائٹرز’ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ورلڈ سینٹرل کچن کے بانی ہوزے آندریس نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے گروپ کے کھانے کے قافلے کو “منظم طریقے سے نشانہ بنایا۔”

انہوں نے کہا کہ اس نے اپنے امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت کے بارے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ واضح رابطہ قائم کیا تھا۔

حملے میں امریکی کینیڈین شہری جیکب فلکنگر کی ہلاکت کے معاملے پر ڈیمو کریٹک پارٹی کے قانون ساز بھی غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس حملے کے بعد ان مطالبات میں بھی اضافہ ہوا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد پر شرائط عائد کرے۔

ڈیمو کریٹک سینیٹر برنی سینڈرز نے منگل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل نے چھ ماہ میں 200 سے زیادہ امدادی کارکنوں کو ہلاک کیا ہے۔ “یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ نیتن یاہو کی جنگی مشین کے لیے مزید کوئی امداد نہیں ہونی چاہیے۔”

خیال رہے کہ اسرائیل سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والا ملک ہے۔ ہر سال اسرائیل تقریباً چار ارب ڈالر کی امریکی امداد وصول کرتا ہے جس میں زیادہ تر عسکری امداد شامل ہے۔

امریکی قانون کے تحت انتظامیہ کو کانگریس کو اسرائیل کو 25 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہتھیاروں کی منتقلی کے بارے میں مطلع کرنا ضروری ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے غیر ملکی فوجی فروخت کے لیے کانگریس کے جائزے کی ضرورت کو نظرانداز کرتے ہوئے اسرائیل کو دو بار ہنگامی ہتھیاروں کی منتقلی کی منظوری دی تھی۔

اسلحے کی منتقلی سے متعلق محکمہ خارجہ کے سابق ڈائریکٹر جوش پال کے مطابق حماس کے حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی منتقلی کی دو تفصیلات عام کی گئیں۔

پال نے اکتوبر میں امریکہ کی “اسرائیل کو مسلسل مہلک امداد” پر احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ دونوں ٹرانسفرز براہ راست تجارتی فروخت کے طریقۂ کار کے تحت کی گئیں اور کانگریس کو اس بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اسلحے کی براہِ راست فراہمی سے متعلق معلومات ابھی بھی بہت کم ہیں۔

امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی رپورٹ جس کی وائس آف امریکہ نے محکمہ دفاع کے ایک اہلکار سے بھی تصدیق کی ہے امریکہ سات اکتوبر کے بعد اب تک 100 مرتبہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کر چکا ہے۔

ہتھیاروں کی یہ منتقلی کانگریس کو مطلع کیے بغیر کی گئی۔

‘واشنگٹن پوسٹ’ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کو اربوں ڈالرز کے ہتھیار منتقل کیے جن میں بم اور جنگی طیارے بھی شامل ہیں۔ حالاں کہ امریکہ اسرائیل کی جانب سے رفح میں زمینی کارروائی کے عندیے پر تنقید کرتا رہا ہے۔ رفح میں 15 لاکھ غزہ کے شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔



Source link