اروند کیجریوال کی گرفتاری و ریمانڈ پر دہلی ہائی کورٹ میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

Share this


اروند کیجریوال کی گرفتاری و ریمانڈ پر دہلی ہائی کورٹ میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

نئی دہلی، 4/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی آبکاری پالیسی معاملے میں منی لانڈنگ کے الزام کے تحت ای ڈی کے ذریعے گرفتار اروند کیجریوال کی عرضداشت پر دہلی ہائی کورٹ نے سماعت مکمل کر لی ہے۔ کیجریوال نے 22 مارچ کو ٹرائل کورٹ کی طرف سے دی گئی گرفتاری اور ریمانڈ کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کیجریوال نے ان کی گرفتاری اور ریمانڈ کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے کیجریوال کی جانب سے جبکہ ای ڈی کی جانب سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو پیش ہوئے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

ای ڈی کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ وہ تذبذب کے شکار ہیں کیونکہ اس عرضداشت پر اس طرح سے بحث کی گئی ہے جیسے کہ ضمانت کی عرضداشت پر ہوتی ہے۔ اے ایس جی نے پہلے کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کی پانچوں نوٹسوں کو نہ تو چیلنج کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں منسوخ کیا گیا ہے۔ اے ایس جی راجو نے پی ایم ایل اے کی دفعہ 45 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میری دلیل یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بڑی تعداد میں ملزمین کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت مسترد ہو جاتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنتا ہے۔ منیش سسودیا کی درخواست ضمانت کا حوالہ دیتے ہوئے اے ایس جی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی ضمانت نہیں دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی نظر میں کیس بنایا گیا ہے۔

اروند کیجریوال کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے جوابی دلیل دیتے ہوئے کہا کہ میرے دوست (اے ایس جی) نے میری درخواست کے بارے میں نہیں بتایا۔ ہماری درخواست پی ایم ایل اے کی دفعہ 19 کے تحت غیر قانونی گرفتاری کو چیلنج کرتی ہے۔ غلط طریقے سے پیش کر کے آپ پٹیشن کو غیر ضروری ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر اے ایس جی نے کہا کہ آپ میرے دلائل کو نہیں سمجھ پائے، جس پر سنگھوی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ دلائل سمجھ میں نہیں آتے۔ سنگھوی نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ چونکہ منیش سسودیا کو ضمانت نہیں ملی، اس لیے اروند کیجریوال کی گرفتاری کو چیلنج کرنا غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گھوٹالہ بہت پہلے سامنے آیا تھا۔ دو بہت ہی ابتدائی تاریخیں اگست 2022 اور اکتوبر 2023 ہیں، اس سے میرے سوال کو تقویت ملتی ہے کہ انتخابات کے وسط میں گرفتاری کیوں کی گئی۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ ابھیشک منو سنگھوی نے گرفتاری کی ٹائمنگ، گرفتاری کی بنیاد، انتخابات کے دوران غیر فعال کرنے، گرفتاری کے ذریعے ذلیل کرنے، بغیر کسی مواد کے گرفتاری نیز پی ایم ایل اے کی دفعات کی پابندی کی خلاف ورزی جیسے نکات اٹھائے۔ عدالت نے ای ڈی کی جانب سے پیش ہوئے اے ایس جی ایس وی راجو اور کیجریوال کی جانب سے پیش ہوئے ابھیشک منو سنگھی کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفظ کر لیا ہے۔



ایک نظر اس پر بھی

ملک کی کئی ریاستوں میں گرمی کی لہر کی وارننگ، پہاڑی ریاستوں میں برف باری کے امکانات

 اپریل کی شروعات کے ساتھ ہی دہلی این سی آر سمیت شمالی ہندوستان میں جہاں گرمی کی شدت میں اضافہ جاری ہے وہیں، ملک کی کئی ریاستوں میں گرمی کی لہر چل رہی ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں بارش اور برف باری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق کرناٹک، اوڈیشہ اور مغربی …

12 Minutes Ago

تہاڑ جیل سے باہر نکلے سنجے سنگھ، کہا ’جیل کے تالے ٹوٹیں گے، کیجریوال-سسودیا-ستیندر چھوٹیں گے‘

عآپ لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ تہاڑ جیل سے باہر آ چکے ہیں۔ دہلی آبکاری گھوٹالہ معاملہ میں چھ ماہ جیل میں گزارنے کے بعد کل انھیں ضمانت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور آج انھیں تہاڑ سے رِہائی مل گئی۔ کچھ دیر پہلے ہی جیل میں ان کی رِہائی کا آرڈر پہنچا تھا جس کے بعد جیل …

21 Minutes Ago

مرکزی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی تمل ناڈو حکومت، قدرتی آفات راحت فنڈ سے رقم دینے کا مطالبہ

تمل ناڈو کی ایم کے اسٹالن حکومت نے مرکزی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے مرکز پر قدرتی آفات راحت فنڈ کو روکنے کا الزام لگایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کو اس فنڈ سے رقم جلد دی جانی چاہیے۔ ایم کے اسٹالن کی قیادت والی ڈی ایم کے حکومت نے آئین کے آرٹیکل …

25 Minutes Ago

لوک سبھا الیکشن کے پیش نظر کانگریس کی ‘ڈور ٹو ڈور’ مہم، کھرگے نے کیا ہر ’گارنٹی‘ پوری کرنے کا وعدہ

لوک سبھا انتخابات کے لیے کانگریس کی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ پارٹی نے آج (3 اپریل) کو دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنے گارنٹی کارڈ تقسیم کئے۔ اس گارنٹی کارڈ میں پارٹی نے بتایا ہے کہ اگر اس کی حکومت بنتی ہے تو وہ عوام سے کون کون سے وعدے پورے کرے گی۔ اس ضمن میں کانگریس کے …

1 Hour Ago

انتخابی نشان معاملہ: سپریم کورٹ نے اجیت پوار گروپ سے 19 مارچ کے بعد جاری کردہ اشتہارات کی تفصیل طلب کی

انتخابی نشان ’گھڑی‘ کے استعمال سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر اجیت پوار گروپ کے عمل در آمد نہ کرنے کی شردپوار گروپ کی شکایت پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اجیت پوار گروپ کو سخت حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اجیت پوار گروپ 19 مارچ کے بعد جاری کیے گئے اپنے اشتہارات …

1 Hour Ago



Source link